ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سپریم کورٹ کالیجیم نے مرکز کے اعتراضات کو کیا مسترد؛ کرناٹک ہائی کورٹ میں ججس کے لیے4 وکلاء کے ناموں کو پھر کیا روانہ

سپریم کورٹ کالیجیم نے مرکز کے اعتراضات کو کیا مسترد؛ کرناٹک ہائی کورٹ میں ججس کے لیے4 وکلاء کے ناموں کو پھر کیا روانہ

Mon, 07 Oct 2019 00:12:05    S.O. News Service

نئی دہلی،6اکتوبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) ججوں کی تقرری کے معاملے پر مرکز اور سپریم کورٹ کالیجیم کے درمیان تصادم کی کڑی میں ایک تازہ معاملہ جڑگیا  ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ میں 4 وکلاء کی بطور ججس کی تقرری کی سفارش کو مرکزی حکومت نے کالجیم کو واپس لوٹادیا تھا مگر چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی کالجیم نے اُن چاروں وُکلاء کے ناموں کو واپس لینے کی مرکز کی تجویز کو ٹھکراتے ہوئے چاروں کو کرناٹک ہائی کورٹ میں تقرر کرنے کی دوبارہ سفارش کی ہے۔

انٹلیجنس بیورو کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ، چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں کالجیم نے کہا کہ آئی بی نے ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ شبیہ کو اچھا بتایا ہے اور ان  کی ایمانداری کے بارے میں کوئی منفی تبصرہ نہیں کیا  ہے۔

جن وکیلوں کی سفارش کی گئی ہے ان میں ساونور وشوجیت شیٹی ، مارالور اندرکمار ارون ، محمد غوث شکور کمال اور انگلاگپے سیتارامیّا اندریش شامل ہیں۔ مرکزی محکمہ انصاف نے شیٹی کا نام کالجیم کو یہ کہہ کر واپس کردیا تھا کہ  ان کے خلاف شکایت ہے کہ ان کی سانٹھ گانٹھ   انڈرورلڈ اور لینڈ مافیا سے ہے۔ لیکن کالجیم نے کہا کہ اُس نے شیٹی کے خلاف لگائے گئے الزامات کی جانچ کی ہے اور کسی بھی الزام سچائی نہیں پائی ہے، بلکہ سبھی ججوں نے اُنہیں جج کے طور پر تقرر کرنے کی ہی سفارش کی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اس سال مارچ میں سپریم کورٹ کالیجیم نے کرناٹک ہائی کورٹ میں بطور جج تقرری کے لئے مرکز کو  8 وکلاء کے نام بھیجے تھے۔حکومت نے ان میں سے 4 ناموں کو قبول کر لیا لیکن باقی 4 ناموں کو ہری جھنڈی نہیں دی تھی، لیکن   چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس ایس اے بوبڈے اور جسٹس این وی رمنا  کی   کالیجیم  نے کرناٹک ہائی کورٹ کے ججوں کے لئے 4 وکلاء کے ناموں کو  واپس لینے کی مرکزی حکومت کی   مانگ کو مسترد کر دیا اور کہا کہ حکومت کے  اعتراضات میں دم نہیں ہے

اس سے پہلے، گجرات ہائی کورٹ کے جج جسٹس اے اے قریشی کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنائے جانے کی کی کالیجیم کی سفارش کو مرکز نے واپس لوٹا دیا تھا،بعد میں انہیں تریپورہ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنایا گیا۔جسٹس کے ایم جوزف کا معاملہ بھی کافی بحث میں رہاتھا۔


Share: